حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سرو دھرم خواجہ مندر کے بانی اور قومی صدر ڈاکٹر صوفی راج جین نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستان ایرانی صدر کا صرف سفارتی سطح پر نہیں بلکہ کھلے دل سے استقبال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایسی سرزمین ہے جہاں کربلا کا پیغام اور اس کی یاد آج بھی مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سچائی، قربانی، بہادری، رحم، وفاداری اور انسانیت جیسے اصول کسی ایک مذہب یا قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ یہی سوچ سرو دھرم خواجہ مندر کی مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کی بنیاد ہے۔

مندر کی جانب سے بتایا گیا کہ اس کے احاطے میں حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا، گلشنِ زہرا سلام اللہ علیہا، امام حسین علیہ السلام کے امام باڑے اور مولا غازی عباس علیہ السلام کے علم مبارک سے متعلق مذہبی اور روحانی یادگاریں موجود ہیں۔
ڈاکٹر صوفی راج جین کے مطابق، مولا غازی عباس علیہ السلام سے متعلق ایک روحانی تجربے نے ان کی زندگی میں اہم تبدیلی پیدا کی، جس کے بعد انہوں نے حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کی یاد اور کربلا کے پیغام کو عام کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے کا عزم کیا۔

سرو دھرم خواجہ مندر کی جانب سے ایرانی صدر کے استقبال کے لیے تیار کیا گیا یادگاری نشان ان کے نمائندے کے طور پر حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی کو پیش کیا گیا۔ مندر نے اسے ہندوستان اور ایران کے درمیان روحانی و ثقافتی تعلقات کی علامت قرار دیا۔
ڈاکٹر صوفی راج جین نے کہا کہ ہندوستان کی مختلف مذہبی اور ثقافتی روایات کربلا کے ان اصولوں کا احترام کرتی ہیں جو سچائی، انصاف، قربانی اور انسانیت کا درس دیتے ہیں۔

مندر کی جانب سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہندوستان آنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ہندوستان اور ایران کے درمیان دوستی، ثقافتی روابط اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔









آپ کا تبصرہ